فتح مکہ کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مکۃ المکرمہ میں داخل ہوئے تو ابوجہل کے بیٹے عکرمہ (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے)نے کہا کہ میں ایسی سرزمین میں نہیں رہوں گا جہاں مجھے اپنے باپ کے قاتلوں کو دیکھنا پڑے ۔ چنانچہ اپنے سسرال پہنچے اور بیوی ام حکیم کو رخت سفر باندھنے کی ہدایت کی ۔ اس نے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ،''اے قریش کے نوجوانوں کے سردار تم کہاں جارہے ہو ، تم ایسی جگہ جارہے ہو جہاں تمہاری کوئی پہچان نہیں ۔''لیکن عکرمہ(رضی اللہ تعالی عنہ )نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا ۔
جب سیدتنا ام حکیم رضی اللہ عنہا سرور عالم ، نور ِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں اسلام قبول کرنے کے لئے حاضر ہوئیں تو عرض کی ،''یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! عکرمہ آپ سے بھاگ کر یمن جارہا ہے کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ کہیں آپ اسے قتل نہ کرڈالیں ، آپ اسے امان دے دیجئے ۔'' یہ سن کر رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے امان عطا فرمادی ۔ پھر ام حکیم رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کی تلاش میں نکلیں اورانہیں تہامہ کے ساحل پر جالیا اور انہیں سمجھانے لگیں ،''اے چچا کے بیٹے ! میں تمہارے پاس لوگوں میں سے سب سے افضل اور نیک ہستی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی طرف سے آئی ہوں ، لہذا! تم خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو ۔'' پھر انہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی امان کے بارے میں بتایا تو عکرمہ (رضی اللہ تعالی عنہ ) نے پوچھا،''کیا تم نے واقعی ایسا کیا ہے ؟'' ام حکیم رضی اللہ عنہا نے جواب دیا ،''ہاں ! میں نے ان سے عرض کی تو انہوں نے امان دے دی ۔'' یہ سن کر عکرمہ (رضی اللہ تعالی عنہ ) ام حکیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ واپس لوٹ آئے ۔