Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
61 - 200
اللہ ! اس نور کو میرے چہرے کے علاوہ کسی اور جگہ ظاہر فرما، کیونکہ مجھے خوف ہے کہ میری قوم یہ گمان کرے گی کہ میرے چہرے پر آنے والی تبدیلی،ان کا دین چھوڑنے کی وجہ سے ہے ۔''میرے دعاکرتے ہی وہ نور، میرے چہرے سے چھڑی کے سرے پر منتقل ہو گیا۔ جب میں گھاٹی سے نیچے اتر رہا تھا،تومیرے شہر والے ،میری اس چھڑی کے نور کو اس طرح دیکھ رہے تھے، جیسے فضا میں لٹکا ہو اکوئی چراغ۔ میں چلتے چلتے ان کے قریب جا پہنچا ۔ صبح ہوئی، تومیراعمررسیدہ باپ میرے پاس آیا۔ میں نے کہا '' مجھ سے دور ہو جائیے،اب میرا اور آپ کا کوئی رشتہ نہیں ہے ۔ ''اس نے پوچھا ، ''بیٹے!وہ کیوں؟'' میں نے جواب دیا''میں مسلمان ہو چکا ہوں اور میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دستِ اقدس پر اسلام کی بیعت کرلی ہے ۔'' انہوں نے کہا ،'' اے لختِ جگر ! مجھ سے جدانہ ہو،اب میرا دین وہی ہے، جو تیرا دین ہے ۔''میں نے عرض کی ، ''توپھر جائیے ، غسل کیجئے ، پاک کپڑے پہنئے اور میرے پاس تشریف لائیے، تاکہ میں آپ کو وہ تعلیم دوں،جو بارگاہِ نبوت ا سے مجھے حاصل ہوئی ہے ۔'' میرے مطالبے پروہ فوراًگئے اور غسل کرکے اورپاک کپڑے پہن کر میرے پاس تشریف لے آئے ۔میں نے انہیں اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کے بارے میں بتایا، چنانچہ انہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا ۔

     پھر میری بیوی میرے پاس آئی، تو میں نے اس سے کہا، مجھ سے دور ہوجا!اب میرا تجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔''....اس نے مجسم سوال بن کر پوچھا ، ''میرے ماں باپ آپ پر فدا !آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟''.... میں نے اسے بھی بتایا کہ اسلام کی وجہ سے ہم دونوں کے درمیان جدائی ہو چکی ہے ۔'' یہ سن کر وہ بھی مسلمان ہوگئی ۔
 (الوفاء باحوال المصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ،ص۲۵۲)
Flag Counter