| اِنفرادی کوشش |
دروازہ کھولنا چاہا تو میری ماں نے میرے قدموں کی آہٹ سن کر کہا ،''ابوہریرہ !وہیں ٹھہرے رہو ۔'' پھر میں نے پانی گرنے کی آواز سنی ۔ کچھ دیر بعد میری ماں نے دروازہ کھولا اور کہا ،''اے ابوہریرہ ! میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کے رسول ہیں ۔'' میں نے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر یہ خوشخبری سنائی تو آپ نے اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا اور دعائے خیر فرمائی۔''
(صحیح مسلم، کتاب المناقب ،باب من فضائل ابی ھریرۃ الدوسی ، رقم الحدیث :۲۴۹۱)
( 37) اپنے والد اور بیوی پر انفرادی کوشش
حضرت سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں عرض کی'' یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! میں اپنی قوم کارئیس اور سردار ہوں ، میں واپس جاکر انہیں بھی دعوتِ اسلام دوں گا، آپ اللہ تعالی سے دعا کریں کہ وہ میرے لئے ایسی علامت اور نشانی قائم فرمائے،جو میرے لئے اس دعوتِ اسلام اور رشد وہدایت میں معاون ثابت ہو ۔''میری اس درخواست پرنبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بارگاہِ خداوندی میں دعا کرتے ہوئے فرمایا،
''اللھم اجعل لہ آیۃ ۔
اے اللہ ! اس کے لئے کوئی نشانی قائم فرما دے ۔''
سیدنا طفیل بن عمرورضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ،'' جب میں اپنی قوم کی طرف نکلا، توابھی اس گھاٹی تک پہنچنے ہی پایاتھا، جس سے میں اپنے شہرکودیکھ سکتاتھا،تواچانک میری آنکھوں کے درمیان چراغ کی مانندایک نور رونما ہوگیا ۔ میں نے بارگاہ ِ الہی میں عرض کی کہ '' اے