| اِنفرادی کوشش |
کے مطابق تخت شاہی پر رہنے کا پابند نہ ہوتا تو میں خود مکہ جا کر رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جوتیاں سیدھی کرتا اور ان کے قدم دھوتا۔''
بادشاہ کی یہ تقریر سن کر اس کے درباری جو کٹرقسم کے عیسائی تھے،ناراض و برہم ہو گئے مگر نجاشی بادشاہ نے جوشِ ایمانی میں سب کو ڈانٹ پھٹکار کر خاموش کر دیا اور کفار مکہ کے تحفوں کو واپس لوٹا کر عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو دربار سے نکلوا دیا اور مسلمانوں سے کہہ دیا کہ تم لوگ میری سلطنت میں جہاں چاہو امن و سکون کے ساتھ آرام و چین کی زندگی بسر کرو کوئی تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔(زُرقانی علی المواھب ج۲ ص۳۳)
(36) اپنی مشرکہ ماں پر انفرادی کوشش
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میری ماں پہلے مشرکہ تھی ۔ میں اسے باربار اسلام کی دعوت پیش کیا کرتا تھا ۔ ایک دن جب میں نے اسے دعوتِ اسلام دی تو اس نے مجھے مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بارے میں بہت ناگوار باتیں کہیں ۔ میں روتا ہوا رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی ،''یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! میں اپنی ماں کو اسلام کی دعوت دیتا رہتا تھا اور وہ انکار کردیتی تھی ، لیکن آج جب میں نے اسے اسلام کی دعوت دی تواس نے آپ کے بارے میں بہت ناگوار باتیں کیں ، آپ اللہ عزوجل سے دعا کریں کہ وہ ابوہریرہ (رضی اللہ تعالی عنہ ) کی ماں کو ہدایت دے ۔'' یہ سن کرآپ انے فورا دعا کی ،''اے اللہ عزوجل !ابوہریرہ (رضی اللہ تعالی عنہ ) کی ماں کو ہدایت عطا فرما۔''
میں آپ کی دعا کے بعد وہاں سے بہت خوش ہو کر اپنے گھر آیا اور جیسے ہی