جس پر ہماری قوم ہماری جان کی دشمن ہو گئی اور ان لوگوں نے ہمیں اتنا ستایا کہ ہم اپنے وطن کو خیر باد کہہ کر آپ کی سلطنت کے زیر سایہ پرامن زندگی بسر کر رہے ہیں اب یہ لوگ ہمیں مجبور کر رہے ہیں کہ ہم پھر اسی پرانی گمراہی میں واپس لوٹ جائیں۔''
حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ کی انفرادی کوشش سے نجاشی بادشاہ بے حد متاثر ہوا۔ یہ دیکھ کر کفار ِمکہ کے سفیر عمرو بن العاص نے اپنے ترکش کا آخری تیر بھی پھینک دیا اور کہا کہ'' اے بادشاہ! یہ مسلمان لوگ آپ کے نبی حضرت عیسیٰ ں کے بارے میں کچھ دوسرا ہی اعتقاد رکھتے ہیں جو آپ کے عقیدہ کے بالکل ہی خلاف ہے۔ ''یہ سن کر نجاشی بادشاہ نے حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ نے سورہ مریم کی تلاوت فرمائی۔ کلام ربانی کی تاثیر سے نجاشی بادشاہ کے قلب پر اتنا گہرا اثر پڑا کہ اس پر رقت طاری ہو گئی اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہمارے رسول ا نے ہم کو یہی بتایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں جو کنواری مریم کے شکم مبارک سے بغیر باپ کے خدا کی قدرت کا نشان بن کر پیدا ہوئے۔ نجاشی بادشاہ نے بڑے غور سے حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ کی تقریر کو سنا اور یہ کہا کہ بلاشبہ انجیل اور قرآن دونوں ایک ہی آفتابِ ہدایت کے دو نور ہیں اور یقینا حضرت عیسیٰ ں خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک حضرت محمدا اللہ عزوجل کے وہی رسول ہیں جن کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انجیل میں دی ہے اور اگر میں دستور سلطنت