''عمارہ بن ولید'' کو بادشاہ حبشہ کے دربار میں اپنا سفیر بنا کر بھیجا ان دونوں نے نجاشی کے دربار میں پہنچ کر تحفوں کا نذرانہ پیش کیا اور بادشاہ کو سجدہ کرکے یہ فریاد کرنے لگے کہ'' اے بادشاہ! ہمارے کچھ مجرم مکہ سے بھاگ کر آپ کے ملک میں پناہ گزین ہو گئے ہیں، آپ ہمارے ان مجرموں کو ہمارے حوالہ کر دیجئے ۔''یہ سن کر نجاشی بادشاہ نے مسلمانوں کو دربار میں طلب کیا ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بھائی حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ مسلمانوں کے نمائندہ بن کر گفتگو کے لئے آگے بڑھے اور دربار کے آداب کے مطابق بادشاہ کو سجدہ نہیں کیا بلکہ صرف سلام کرکے کھڑے ہو گئے درباریوں نے ٹوکا۔ تو حضرت رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہمارے رسول ا نے خدا کے سوا کسی کو سجدہ کرنے سے منع فرمایا ہے اس لئے میں بادشاہ کو سجدہ نہیں کر سکتا۔
اس کے بعد حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ نے نجاشی سے مخاطب ہو کر فرمایا ،
''اے بادشاہ! ہم لوگ ایک جاہل قوم تھے شرک و بت پرستی کرتے تھے لوٹ مار' چوری' ڈکیتی' ظلم و ستم اور طرح طرح کی بدکاریوں اور بداعمالیوں میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری قوم میں ایک شخص کو اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ جس کے حسب و نسب اور صدق و دیانت کو ہم پہلے سے جانتے تھے۔ اس رسول نے ہم کو شرک و بت پرستی سے روک دیا اور صرف ایک خدائے واحد کی عبادت کا حکم دیا اور ہر قسم کے ظلم و ستم اور تمام برائیوں اور بدکاریوں سے ہم کو منع کیا۔ ہم اس رسول پر ایمان لائے اور شرک و بت پرستی چھوڑ کر تمام برے کاموں سے تائب ہو گئے۔ بس یہی ہمارا گناہ ہے