Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
56 - 200
 (34) اپنی ماں پر انفرادی کوشش
    حضرت طلیب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ  اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی ماں ارویٰ بنت عبدالمطلب کے پاس آئے اوراسلام کی دعوت پیش کرتے ہوئے کہنے لگے ،''ماں!میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کر لی ہے ،اب تمہیں اسلام قبول کرنے اور آپ اکی اتباع کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟ جبکہ تمہارے بھائی سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ  بھی مسلمان ہوچکے ہیں ۔'' ان کی ماں نے جواب دیا ،''میں اس انتظار میں ہوں کہ میری بہنیں کیا کرتی ہیں؟ پھر میں بھی ویسا ہی کروں گی۔''حضرت طلیب رضی اللہ تعالی عنہ  نے پھر عرض کی ،''ماں ! میں تمہیں خدا عزوجل کا واسطہ دیتا ہوں کہ تم ضرور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہو ،انہیں سلام کرو ، ان کی تصدیق کرو اور اس بات کی گواہی دو کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں (یعنی مسلمان ہوجاؤ)۔''بیٹے کی فریاد سن کر ماں کا دل پسیج گیا اور انہوں نے کہا ،''میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ عزوجلکے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ا اس کے رسول ہیں ۔''اور مسلمان ہوگئیں ۔
 ( الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ،کتاب النساء ،ج۴، ص۳۴۳)
 (35) نجاشی کے دربار میں انفرادی کوشش
    حبشہ کی جانب ہجرت کرنے کے بعد تمام مہاجرین وہاں نہایت امن و سکون کے ساتھ رہنے لگے۔ مگر کفار ِمکہ کو کب گوارا ہو سکتا تھا کہ فرزندان توحید کہیں امن و چین کے ساتھ رہ سکیں۔ ان ظالموں نے کچھ تحائف کے ساتھ ''عمرو بن العاص'' اور
Flag Counter