Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
55 - 200
شروع کر دیا اورحضرت اسعد بن زرارہ سے کہا،'' اے ابوامامہ (رضی اللہ تعالی عنہ ) ! اگر ہمارے درمیان رشتہ داری نہ ہوتی تو تم کبھی ایسی ہمت نہ کر سکتے ، کیا تم ہمارے گھروں میں وہ چیز لانا چاہتے ہو جس کو ہم برا سمجھتے ہیں؟'' حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ  نے انہیں بھی سمجھاتے ہوئے فرمایا ،''ارے بیٹھو تو سہی ! اور ہماری بات تو سن لو ،اگر سمجھ میں آجائے تو مان لینا اور اگر ناپسند گزرے تو ہم یہاں سے چلے جائیں گے ۔''اس پیش کش کو سن کر یہ بھی نرم پڑگئے اور اپنا نیزہ زمین پر گاڑ کر ان کے قریب بیٹھ گئے ۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ  نے ان پر بھی اسلام کی خوبیاں آشکار کیں اور سورہ زخرف کی ابتدائی آیات پڑھ کر سنائیں ۔ قرآن پاک سنتے ہی ان کے چہرے پر بھی قبولِ اسلام کے ارادے کا نور چمکنے لگا اور اِنہوں نے دریافت کیا ،''جب تم اسلام لاتے ہو تو کیا کام کرتے ہو اور کیا بات کہتے ہو؟'' انہیں بھی بتایا گیا کہ اچھی طرح پاکی حاصل کر کے کلمہ حق کی گواہی دو اور نماز پڑھو۔''چنانچہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ  نے بھی غسل کر کے کلمہ پڑھا اور دورکعت نماز پڑھی ۔ پھر اپنی قوم کی طرف لوٹے اور ان سے کہنے لگے ،''تم میرے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو؟'' سب نے بیک زبان ہو کر کہا ، ''آپ ہمارے سردار ہیں اور آپ کی رائے درست اور دُور رس ہوتی ہے ۔''حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ  نے کہا ،''مجھ پرتمہارے مردوں اور عورتوں سے اس وقت تک بات کرنا حرام ہے جب تک تم اللہ عزوجل اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لے آتے ۔'' راوی فرماتے ہیں ،''خدا عزوجل کی قسم ! شام نہیں ہونے پائی تھی کہ اس قبیلے کے تمام مرد وعورت مسلمان ہوچکے تھے ۔''
 (البدایۃ والنہایۃ ،ج۳،ص۱۸۶)
Flag Counter