Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
54 - 200
پیاری ہے تو یہاں سے چلے جاؤ۔'' حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ  نے نرمی سے کہا ،''ذرا بیٹھ کر میری بات تو سن لو ، اگر میری بات سمجھ میں آجائے تو اسے مان لینا اور اگر پسند نہ آئے تو ہم تمہیں مجبور نہیں کریں گے ۔'' اسید بن حضیر نے کہا ،''یہ بات تو تم نے فائدے کی کہی ہے ۔''اور اپنا نیزہ زمین پر گاڑ کر ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے ۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ  نے ان کو اسلام کے بارے میں بتانا شروع کیا اور قرآن پڑھ کر سنایا تو ان کے چہرے پر قبولِ اسلام پر آمادگی کے آثار نمودار ہوئے اور یہ کہنے لگے ،'' کیا ہی اچھا اور پسندیدہ دین ہے ، اس دین میں داخل ہونے کے لئے تم کیا کہلواتے اور کون سا کام کرواتے ہو ؟'' ان دونوں نے جواب دیا ، ''پہلے غسل کریں اور اپنے کپڑے پاک کریں پھر کلمہ حق کی گواہی دیں پھر نماز پڑھیں۔'' ۱؎ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالی عنہ  نے ان کے کہنے کے مطابق غسل کر کے کلمہ پڑھا اور دو رکعت نماز ادا کی پھر ان سے کہنے لگے کہ '' میرے پیچھے ایک آدمی اور ہے جس کا نام سعد بن معاذ ہے ، اگر اس نے تم دونوں کی بات مان لی تو میری ساری قوم تمہاری بات مان لے گی ، میں اسے ابھی تمہارے پاس بھیجتا ہوں ۔ '' یہ کہہ کر آپ رضی اللہ تعالی عنہ  وہاں سے چل دئیے اور سعد بن معاذ کے پاس جا پہنچے اور ان سے کہنے لگے ،''میں نے ان سے گفتگو کی ہے ، خدا کی قسم ! میں نے کوئی خطرے والی بات نہیں دیکھی ۔'' پھر آپ نے کسی نہ کسی حیلے سے سعد بن معاذ کو ان کے پاس جانے پر راضی کر لیا ۔ جب سعد بن معاذ ان دونوں کے پاس پہنچے تو ان کو برا بھلا کہنا
_______________________ 

1: یہ ابتدائے اسلام کا واقعہ ہے، تاہم اب کسی کو اسلام قبول کرنے کے لئے غسل کرنےکا نہیں کہا جائے گا بلکہ فورا کلمہ پڑھا دینا ضروری ہے۔ ماخوذ از فتاوی مصطفویہ ص 23
Flag Counter