حضرت مصعب بن عمیررضی اللہ تعالی عنہ ،حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ تعالی عنہ کی رفاقت میں راہِ خداعزوجل میں سفر پر روانہ ہوئے تو قبیلہ ئبنی ظفر کے باغ میں مرق نامی کنوئیں پر جاکر بیٹھ گئے ۔ ان دونوں کے پاس قبیلہ بنو اسلم کے لوگ جمع ہوگئے۔ ان کے چوٹی کے سردار سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر تھے جو ابھی دامنِ اسلام سے وابستہ نہ ہوئے تھے ۔ جب ان دونوں کو اپنے خالہ زاد بھائی حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ تعالی عنہ کے آنے کی خبر ملی تو سعد بن معاذ نے اسید بن حضیر کو بھیجا کہ جاؤان دونوں کو ڈانٹ کر روک دو جو ہمارے کمزور لوگوں کو (معاذ اللہ عزوجل) بہکانے کے لئے آئے ہیں ۔ چنانچہ اسید بن حضیر نے اپنا نیزہ لیا اور کنوئیں کی طرف روانہ ہوگئے ۔ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو دور سے ہی آتے ہوئے دیکھ لیا اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہنے لگے ،''یہ شخص اپنی قوم کا سردار ہے ۔'' آپ نے فرمایا،''ذرا آنے تودو ،میں ہی اس سے بات کروں گا۔''
اسید بن حضیر نے آتے ہی ان کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور کہنے لگے ،''تم یہاں کس لئے آئے ہو ؟ ہمارے کمزوروں کو بے وقوف بنانے کے لئے ؟ اگر تمہیں زندگی