حضرت سیدنا اسلم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں ملک ِ شام میں تھا تو حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس وضو کا پانی لے کر حاضر ہوا ۔ آپ نے دریافت فرمایا ،''یہ پانی کہاں سے لائے ہو ؟بہت اچھا پانی ہے ۔'' میں نے عرض کی،''ایک نصرانی بڑھیا کے گھر سے لایا ہوں ۔'' آپ وضو کرنے کے بعد اس بڑھیا کے گھر تشریف لے گئے اور اسلام کی دعوت پیش کرتے ہوئے کہنے لگے ،''اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا دین دے کر بھیجا ہے ، تم بھی اسلام قبول کر لو ۔''یہ سن کر اس بڑھیا نے اپنے سر سے چادر اتار کر اپنے سفید بال دکھائے اور کہنے لگی ،''میں انتہائی بوڑھی ہوچکی ہوں اور اب میری موت بالکل قریب ہے ۔(یعنی ایسے وقت میں کیا اسلام لاؤں گی )'' یہ سن کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا ،''یااللہ عزوجل ! تو گواہ ہوجا(کہ میں اسلام کی دعوت پیش کر چکا) ۔''
(الدار قطنی ،ج۱،ص۴۴، رقم :۶۰)
(32) اپنے نصرانی غلام پر انفرادی کوشش
حضرت سیدنا عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ اپنے نصرانی غلام کومسلسل دعوتِ اسلام دیتے رہتے اور فرمایا کرتے ،''اگر تم مسلمان ہوجاؤ تو میں تم سے مسلمانوں کی امانتوں میں مدد