| اِنفرادی کوشش |
مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں ایک عورت آئی ، اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی تھی جس کے ہاتھ میں سونے کے موٹے موٹے کنگن تھے ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس عورت سے پوچھا کہ کیا تم ان کی زکوۃ ادا کرتی ہو؟'' اس عورت نے عرض کی ،''جی نہیں۔'' تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دریافت فرمایا ،''کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہیں ان کنگنوں کے بدلے آگ کے کنگن پہنا دے ؟'' یہ سنتے ہی اس عورت نے وہ کنگن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے آگے ڈال دئیے اور عرض کی ،''یہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے ہیں ۔''
(سنن ابوداؤد، کتاب الزکوۃ،ج۲،ص۱۳۷،رقم:۱۵۶۳)
(27) ایک نوجوان پر انفرادی کوشش
مروی ہے کہ ایک نوجوان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوااور عرض کرنے لگا ، ''یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم!مجھے زناء کی اجازت دیجئے۔''یہ سنتے ہی تمام صحابہ کرام ر ضی اللہ عنھم جلال میں آ گئے اور اسے مارنا چاہا۔رسول اللہانے ارشاد فرمایا کہ'' اسے نہ مارو۔''پھر اسے اپنے پاس بلا کر بٹھایا اور نہایت نرمی اور شفقت کے ساتھ سوال کیا،
''اے نوجوان!کیا تجھے پسند ہے کہ کوئی تیری ماں سے ایسا فعل کرے؟''اس نے عرض کی ،''میں اس کو کیسے روا رکھ سکتا ہوں ؟''آپ نے ارشاد فرمایا،''تو پھر دوسرے لوگ تیرے بارے میں اسے کیسے روا رکھ سکتے ہیں؟''پھر آپ نے دریافت