صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر اس خواب کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا '' اللہ تعالی کی طرف سے تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا گیا ہے، اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمارے درمیان موجود ہیں ان کی پیروی کرلو، تمہارے خواب کی یہی تعبیر ہے ۔ تم اُن کی پیروی کروگے اور اسلام میں داخل ہو جاؤگے تو اسلام تمہیں آگ میں داخل ہونے سے بچائے گا۔''
پھر حضرت خالد رضی اللہ تعالی عنہ نے حاضر خدمت ہوکر عرض کیا۔'' اے اللہ عزوجل کے رسول! آپ کس چیز کی طرف بلاتے ہیں؟ ''آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے (اسلام کی دعوت پیش کرتے ہوئے ) فرمایا، ''میں تم کو اللہ عزوجل کی طرف بلاتا ہو ں، وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کی طرف بلاتا ہوں کہ جس کا محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بندہ اور رسول ہے۔ اور بت پرستی جس پر تم جم رہے ہو چھوڑدو، یہ پتھر نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں اور نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ یہ جانتے ہیں کہ ان کی کون عبادت کرتا ہے اور کون نہیں کرتا؟'' حضرت خالد رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ سن کر فوراً اسلام قبول کرلیا۔