جب ابو طالب کی موت کا وقت قریب آیا تو نبی کریم ا تشریف لائے اور (دعوتِ اسلام پیش کرتے ہوئے)فرمایا ،'' اے چچا! آپ کلمہ پڑھ لیجئے،یہ وہ کلمہ ہے کہ اس کے سبب سے میں خدا (عزوجل)کے دربار میں آپ کی مغفرت کے لئے اصرار کروں گا۔'' اس وقت ابو جہل اور عبداﷲ بن ابی امیہ ' ابوطالب کے پاس موجود تھے۔ ان دونوں نے ابو طالب سے کہا ،'' اے ابو طالب! کیا تم عبدالمطلب کے دین سے روگردانی کروگے؟ ''پھر یہ دونوں برابر ابو طالب سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ ابو طالب نے کلمہ نہیں پڑھا بلکہ ان کی زندگی کا آخری قول یہ تھا کہ ''میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔'' یہ کہنے کے بعدان کی روح پرواز کر گئی۔
رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اس سے بڑا صدمہ پہنچا۔ اور آپ نے فرمایا کہ ''میں آپ کے لئے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتا رہوں گا جب تک اﷲ تعالیٰ مجھے منع نہ فرمادے۔'' اس کے بعد یہ آیت نازل ہو گئی کہ،