ظہور ہوگا ۔نیز اس گروہ والے یہود سے سنا کرتے تھے کہ نبی آخر الزمان کا زمانِ ظہور قریب آچکا ہے ۔
رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان سے دریافت فرمایا ،''تم کون ہو؟.... انہوں نے عرض کی ،ہم قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ نے ارشادفرمایا،کیا کچھ دیر بیٹھوگے نہیں،میں تم سے کچھ بات چیت کرناچاہتا ہوں؟'' انہوں نے عرض کی ،''کیوں نہیں!....
آپ نے انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان پر دین ِ اسلام پیش کیا ، قرآن مجید فرقانِ حمید کی تلاوت فرمائی۔
جب رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنی دعوت مکمل فرمائی ، تو انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو کہا،'' بخدا! یہ وہی نبی ہیں ،جن کے ظہور کی یہود تمہیں خبر دیا کرتے تھے۔اب فوراًان کی اتباع کا شرف حاصل کرلو،کہیں ایسانہ ہوکہ وہ تم سے ایمان واسلام میں سبقت لے جائیں۔''
چنانچہ انہوں نے آپ کی دعوت کو قبول کیااور دولتِ ایمان واسلام سے مالا مال ہو کر اپنے گھروں کی طرف لوٹے ۔ یہ گروہ چھ آدمیوں پر مشتمل تھا، جن کے اسمائے مبارکہ یہ ہیں ۔