Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
37 - 200
یہ کلام زبان پر نہیں لاتے ۔ آپ ا نے دریافت فرمایا کہ تم کس شہر سے تعلق رکھتے ہواور تمہارا دین کیا ہے ؟.... اس نے عرض کیا،'' میں نصرانی ہوں اور اہل نینوا سے ہوں ۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے حضرت یونس ں کے شہر سے ؟... اس نے حیرت سے پوچھا کہ آپ حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں کیسے جانتے ہیں؟... آپ نے فرمایا،'' وہ میرے بھائی ہیں ، وہ بھی نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں ۔'' عدرس نے جونہی آپ کا جواب سنا، تو ادب ونیاز سے جھک کر آپ کے سر اقدس کو بوسہ دیا ، پھر دستِ اقدس چومے اور بعد ازاں قدموں کو بوسہ دیا ۔ دونوں بھائی یہ منظر بھی دیکھ رہے تھے ۔ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ ''اس شخص نے تیرے غلام کو اب تیرے کام کا نہیں چھوڑا ۔'' جب عدرس ان کے پاس پہنچا ،تو انہوں نے کہا، تیرے لئے افسوس ہے ،تجھے کیا ہوگیاکہ تو اس شخص کے سر کو چومنے لگ گیا اور اس کے ہاتھ پاؤں کے بوسے لینے لگا؟.... غلام نے جواب دیا،''اے میرے سردار!اس ہستی سے بڑھ کر دنیا میں کوئی شخص نہیں ہے۔ انہوں نے مجھے ایک ایسے امر کی خبر دی ہے کہ جسے صرف نبی ہی جانتا ہے ۔
( الوفاء باحوال المصطفٰی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ، ص۲۶۲)
( 11) انصاری صحابہ رضی اللہ تعالی عنھم پر انفرادی کوشش
     نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مبارک معمول تھا کہ موسمِ حج میں مکہ مکرمہ آنے والے مختلف قبائل کے ہاں یکے بعد دیگرے تشریف لے جاتے۔ایک روز آپ عقبہ کے پاس تھے کہ آپ کی ملاقات ،قبیلہ خزرج کے ایک گروہ سے ہوئی ۔ یہ قبیلے والے اپنے آباؤاجدادسے سنتے رہے تھے کہ بنی غالب میں سے عنقریب ایک نبی آخر الزمان کا
Flag Counter