Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
36 - 200
اور بخدا! وہ مجھے آپ کے متعلق اتنا ڈراتے رہے کہ میں نے اپنے کانوں میں روئی ڈال لی تھی کہ آپ کی آواز نہ سن سکوں ،مگر اللہ تعالی نے مجھے آپ کا کلام سنانے کا فیصلہ کررکھا تھا ۔ میں نے انتہائی حسین اور پاکیزہ کلام کو سنا ۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ اپنادعوی اوراپنی دعوت مجھے بتائیں اوراپناکلام سنائیں۔

    رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھ پراسلام کی دعوت پیش فرمائی اورقرآن پاک کی تلاوت کی ۔بخدا! میں نے قرآن سے زیادہ کوئی حسین کلام نہیں سنا تھااورنہ ہی اسلام سے بڑھ کرکوئی عادلانہ نظام میری نظر سے گزراتھا۔ چنانچہ میں نے فوراًاسلام قبول کرلیا اورحق کی گواہی دی ۔
(الوفاء باحوال المصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ،ص۲۵۲)
(10) ایک نصرانی پر انفرادی کوشش
    سفر طائف کے دوران جب آپ ایک درخت کے سائے میں تشریف فرما ہوئے اور آپ کو اطمینان و سکون حاصل ہو گیا،تو آپ نے بارگاہِ خداوندی میں دعا کی۔جب عتبہ اور شیبہ نے نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تکلیف و پریشانی کو دیکھا،تو اپنے نصرانی غلام کو بلایا،جس کو عدرس کہا جاتا تھا اور اسے کہا کہ انگوروں کا ایک گچھا، تھال میں رکھ کر اس شخص کی خدمت میں لے جا کر پیش کر اور عرض کر کہ اسے تناول فرما لیں ۔ عدرس نے انگور لئے ، تھال میں رکھے اور سرورِ عالم ا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں لے گیا ۔ جب آپ نے اپنا دستِ اقدس تھال کی طرف بڑھایا کہ انگور کھائیں ،تواولاً بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی ،پھر انگور کھائے ۔

     عدرس آپ کے چہرہ انور کی طرف دیکھنے لگا اور عرض کیا کہ بخدا! اس شہر والے تو
Flag Counter