اس شخص نے ہمیں بڑی مشکل میں ڈال رکھا ہے۔اس نے ہماری جماعت کو بکھیر کررکھ دیا ہے ، اس کی گفتگو سحر کی مانند ہے، جس کو سننے کی وجہ سے باپ اور بیٹے میں جدائی واقع ہوتی ہے ، بھائی بھائی سے دور ہو جاتا ہے اور میاں بیوی ایک دوسرے کے دشمن ہوجاتے ہیں۔ہمیں خطرہ ہے کہ جس مشکل سے ہم دوچار ہیں، کہیں تم اور تمہاری قوم بھی اس مصیبت کاشکار نہ ہوجاؤ ،لہذا تم اس سے کلام مت کرنااور نہ ہی اس کی بات سننا ۔''
طفیل بن عمرو فرماتے ہیں کہ کفارمجھے اسی طرح مسلسل نصیحتیں کرتے رہے، حتی کہ میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ نہ اس دعوائے رسالت کرنے والے کی بات سنوں گا اور نہ ان سے کسی قسم کاکلام کروں گا ۔ چنانچہ جب صبح کے وقت،میں مسجد ِحرام میں گیا، تو میں نے اپنے کانوں میں روئی دے لی، تاکہ ان کی آوازمجھ تک نہ پہنچنے پائے۔جب میں مسجدحرام میں داخل ہوا، توکیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کعبہ کے پاس کھڑے ہو کر نماز ادافرما رہے تھے ۔میں بھی آپ کے پاس کھڑا ہوگیا ۔ میرے نہ چاہنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کا کلام سناہی دیا ۔ سن کر مجھے معلوم ہوا کہ آپ کا کلام تو بے حدحسین ہے۔میں نے دل ہی دل میں کہا، مجھے میری ماں روئے !واللہ! میں عقل رکھتا ہوں اور فن شعر وشاعری میں مہارت بھی ، مجھ پرکسی کلام کا حسن وقبح مخفی نہیں رہ سکتا ، میرے لئے اس میں رکاوٹ کی کونسی بات ہے کہ ان کے کلام کوسنوں ،اگر اچھا ہو، تو قبول کرلوں اور اگر اس کے برعکس ہو تو چھوڑ دوں اورنظر انداز کردوں ۔ ''
فرماتے ہیں کہ میں وہیں ٹھہرا رہا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے چل دیا،پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا ۔ میں نے عرض کی'' اے محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!آپ کی قوم نے مجھے آپ کے بارے میں یہ کچھ کہا تھا