اونٹنی پر سوار ہوکر فوراً مکہ جاپہنچا ۔ وہاں پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ رسول ِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کسی خفیہ مقام پر جلوہ فرما ہیں اور مکہ والے آپ کے درپےئ آزار ہیں ۔ میں بڑی مشکلوں سے آپ تک پہنچا اور عرض کی ،''آپ کون ہیں؟'' آپ نے ارشاد فرمایا ،''میں اللہ عزوجل کا نبی ہوں۔''میں نے پوچھا ،''نبی کس کو کہتے ہیں؟'' آپ نے جواب دیا ،''اللہ عزوجل کی طرف سے پیغام لانے والے کو ۔'' میں نے سوال کیا ،''کیا واقعی آپ کو اللہ (عزوجل) نے بھیجا ہے ؟''آپ نے ارشاد فرمایا ، ''ہاں !مجھے اللہ تعالیٰ نے ہی بھیجا ہے ۔'' میں نے پوچھا ،''کیا پیغام دے کر بھیجا ہے ؟'' فرمایا ،''اللہ عزوجل کو ایک مانا جائے ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے ، بت توڑ دئیے جائیں اور رشتہ داروں سے اچھا سلوک کیا جائے ۔'' میں نے عرض کی ،''آپ کا ساتھ دینے والوں میں کون لوگ شامل ہیں ؟'' ارشاد فرمایا ،''ایک آزاد اور ایک غلام۔''تو میں نے دیکھا کہ آپ کا پاس حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ موجود تھے ۔میں نے عرض کی ،''میں بھی آپ کی غلامی میں آنا چاہتا ہوں ۔''آپ نے ارشاد فرمایا ،''موجودہ حالات میں میرا ساتھ دینا تمہارے بس سے باہر ہے ، ابھی تو تم (اسلام قبول کر کے ) اپنے گھر چلے جاؤ اور جب سنو کہ مجھے غلبہ حاصل ہوگیا ہے تو میرے پاس چلے آنا۔'' چنانچہ میں آپ کے حکم کے مطابق اسلام قبول کر کے گھر چلا آیا۔''