''یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ لَاتَقْنَطُوْامِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ
ترجمہ کنزالایمان : اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ،اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔''(زمر :۵۳)
یہ سن کر حضرت سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا ،''اب ٹھیک ہے ۔''اوردامن ِ اسلام میں آگئے ۔
(مجمع الزوائد ،ج۷،ص۲۲۴،رقم الحدیث ۱۱۳۱۴)
(7) حضرت سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالی عنہ پر انفرادی کوشش
حضرت سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
''میں زمانہ جاہلیت میں لوگوں کو سراسر گمراہ خیال کرتا تھا اور بتوں کو کچھ نہ سمجھتا تھا ۔ ایک دن میں نے سنا کہ مکہ میں ایک شخص ہے جو نئی نئی باتیں بیان کرتا ہے ۔ میں اپنی