Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
32 - 200
    جب وحشی کو اس آیت کے بارے میں پتہ چلا تو اس نے اپنا اشکال پیش کیا کہ نیک اعمال اور توبہ کی شرط تو بہت کڑی ہے ،عین ممکن ہے کہ میں اس کو پورا نہ کر پاؤں۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی ،
''اِنَّ اللہَ لَایَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ
ترجمہ کنزالایمان :بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور اس کفرسے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے ۔''(النساء :۴۸)
    اس آیت کو سن کر وحشی نے کہا،''میرے گمان میں یہ خدا (عزوجل)کی مشیت پر ہے مجھے کیا پتہ کہ میری مغفرت ہوگی بھی یا نہیں؟ کیا اس کے علاوہ کوئی اور بھی امید افزاء بات ہے یا نہیں ؟''تب یہ آیت نازل ہوئی
''یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ لَاتَقْنَطُوْامِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ
ترجمہ کنزالایمان : اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ،اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔''(زمر :۵۳)

    یہ سن کر حضرت سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ تعالی عنہ  نے کہا ،''اب ٹھیک ہے ۔''اوردامن ِ اسلام میں آگئے ۔
(مجمع الزوائد ،ج۷،ص۲۲۴،رقم الحدیث ۱۱۳۱۴)
(7) حضرت سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالی عنہ  پر انفرادی کوشش
   حضرت سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالی عنہ  اپنے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ 

    ''میں زمانہ جاہلیت میں لوگوں کو سراسر گمراہ خیال کرتا تھا اور بتوں کو کچھ نہ سمجھتا تھا ۔ ایک دن میں نے سنا کہ مکہ میں ایک شخص ہے جو نئی نئی باتیں بیان کرتا ہے ۔ میں اپنی
Flag Counter