| اِنفرادی کوشش |
رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی ،''یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! آپ کس امید پر اس شخص سے گفتگو فرمار ہے ہیں ؟ (مجھے تو لگتا ہے کہ) خدا عزوجل کی قسم! یہ رہتی دنیا تک ایمان نہ لائے گا ، مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں اوریہ جہنم رسید ہوجائے ۔''مکی مدنی سلطان رحمتِ عالمیان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ کی بات پر توجہ نہ دی اوراسے مسلسل سمجھاتے رہے یہاں تک کہ حکم بن کیسان رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوگئے ۔
( طبقات ابن سعد ج۴،ص۱۰۲)
( 6) حضرت سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ تعالی عنہ پر انفرادی کوشش
حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ا نے حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کرنے والے وحشی بن حرب کے پاس اپنا نمائندہ بھیج کر اسلام قبول کرنے کے لئے دعوت دی ۔ اس نے جواب میں یہ کہلا بھیجا ، ''آپ کیونکر مجھے اسلام کی طرف آمادہ کررہے ہیں جب کہ آپ کا دعوی ہے کہ قاتل ، مشرک اور زانی جہنم میں ڈالا جائے گا اور قیامت کے دن اس کے عذاب کو دوگنا کر دیا جائے گا اور وہ ہمیشہ جہنم میں ذلیل وخوار ہوتا رہے گا ۔اور میں نے ان سب کاموں کو کیا ہے ، تو کیا ان سب کے باوجود آپ میرے چھٹکارے کی کوئی راہ پاتے ہیں ۔''
اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی ،اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ ؕ وَکَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۷۰﴾
ترجمہ کنزالایمان: مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔'' (الفرقان ۷۰)