( 3) حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ پر انفرادی کوشش
ایک مرتبہ سرورِ عالم نورِ مجسم ا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کا شانہ رسالت میں تشریف لائے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا کہ'' یہ آپ کیا کررہے تھے؟'' آپ ا نے(اسلام کی دعوت دیتے ہوئے )ارشاد فرمایا، ''یہ اللہ عزوجل کا ایسا دین ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے منتخب کیا اور اسی کی دعوت کے لئے انبیاء علیہم السلام بھیجے لہٰذا میں تمہیں بھی ایسے اللہ عزوجل کی طرف بلاتا ہوں جو تنہا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کی عبادت کا حکم دیتا ہوں اور لات و عزیٰ کا انکار کرو۔'' حضرت علی رضی اللہ نے کہا کہ'' یہ ایسی بات ہے کہ آج سے قبل میں نے کبھی نہیں سنی میں اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا جب تک کہ اپنے والد ابو طالب سے بیان نہ کرلوں ۔'' آپ ا کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے اس جواب سے تشویش ہوئی کہ کہیں آپ کے اعلان سے پہلے ہی یہ راز فاش نہ ہوجائے، لیکن اللہ عزوجل نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دل کو اسلام کی طرف مائل فرمادیا ۔چنانچہ وہ دوسری صبح آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی ،''آپ مجھ پر کیا پیش کرتے ہیں ؟'' آپ