تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکے گھر میں ہیں ۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ باہر تشریف لائے ۔
میں نے پوچھا ،''اے محمد! آپ نے اپنے آباؤ اجداد کا دین ترک کر دیا؟'' آپ نے (اسلام کی دعوت دیتے ہوئے ) فرمایا،'' اے ابوبکر ! میں تمہاری اور تمام لوگوں کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں ، تم اللہ پر ایمان لے آؤ۔'' میں نے کہا کہ آپ کے اس دعویٰ کی دلیل کیا ہے ؟'' فرمایا ''وہ بوڑھا شخص جو تمہیں یمن میں ملا تھا ۔'' میں نے کہا کہ میں تو وہاں کئی بوڑھوں سے ملا ہوں۔ '' آپ نے فرمایا کہ'' وہ بوڑھا شخص جس نے تمہیں شعر سنائے تھے ۔''میں نے کہا کہ'' آپ کو کس نے خبر دی ؟'' آپ نے فرمایا کہ اس عظیم فرشتے نے جو مجھ سے پہلے انبیاء کے پاس آتا رہا ہے ۔'' میں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں اور بے شک آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔'' پھر فرماتے ہیں کہ '' میں واپس ہوگیا اور میرے اسلام لانے پر پوری وادی میں سب سے زیادہ خوشی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ہوئی ۔''