Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
28 - 200
تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکے گھر میں ہیں ۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ باہر تشریف لائے ۔ 

    میں نے پوچھا ،''اے محمد! آپ نے اپنے آباؤ اجداد کا دین ترک کر دیا؟'' آپ نے (اسلام کی دعوت دیتے ہوئے ) فرمایا،'' اے ابوبکر ! میں تمہاری اور تمام لوگوں کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں ، تم اللہ پر ایمان لے آؤ۔'' میں نے کہا کہ آپ کے اس دعویٰ کی دلیل کیا ہے ؟'' فرمایا ''وہ بوڑھا شخص جو تمہیں یمن میں ملا تھا ۔'' میں نے کہا کہ میں تو وہاں کئی بوڑھوں سے ملا ہوں۔ '' آپ نے فرمایا کہ'' وہ بوڑھا شخص جس نے تمہیں شعر سنائے تھے ۔''میں نے کہا کہ'' آپ کو کس نے خبر دی ؟'' آپ نے فرمایا کہ اس عظیم فرشتے نے جو مجھ سے پہلے انبیاء کے پاس آتا رہا ہے ۔'' میں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں اور بے شک آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔'' پھر فرماتے ہیں کہ '' میں واپس ہوگیا اور میرے اسلام لانے پر پوری وادی میں سب سے زیادہ خوشی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ہوئی ۔''
(اسد الغابہ ،جلد ۳،، س۳۱۹)
( 2) حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ  پر انفرادی کوشش
     حضرت سیدنا اسلم رضی اللہ تعالی عنہ  فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سیدنا عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ  نے لوگوں سے فرمایا ،''کیا میں تمہیں اپنے اسلام قبول کرنے کا قصہ نہ بیان کروں؟'' لوگوں نے عرض کی ،''کیوں نہیں ۔''تو ارشاد فرمایا ،''میں پہلے پہل رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا بہت بڑا دشمن تھا ۔ آپ ا صفا پہاڑی کے قریب ایک مکان میں تشریف فرما تھے کہ میں آپ کی خدمت میں پہنچا اور سامنے جاکر بیٹھ گیا ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے میری قمیص پکڑ کر ارشاد
Flag Counter