(4) حضرت سیدنا امام محمد غزالی علیہ الرحمۃ نقل فرماتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام نے بارگاہ ِ الٰہی عزوجل میں عرض کی ،''یااللہ عزوجل !جو اپنے بھائی کو بلائے ،اسے نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے تو اس کی جزاء کیا ہے ؟'' ارشاد فرمایا،''میں اس کی ہر بات پر ایک سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہوں اور اسے جہنم کی سزا دینے میں مجھے حیاء آتی ہے۔''
(مکاشفۃ القلوب، باب فی الامر والمعروف ،ص۴۸)
(5) ان کے علاوہ انفرادی کوشش کی غرض سے کی گئی ملاقات سے ہمیں درجِ ذیل فضائل بھی حاصل ہوں گے ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
(۱) حضرتِ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ ''ایک شخص کسی شہر میں اپنے کسی بھائی سے ملنے گیا تو اللہ عزوجل نے ایک فرشتہ اس کے راستے میں بھیجا جب وہ فرشتہ اس کے پاس پہنچا تو اس سے پوچھا ''کہاں کا ارادہ ہے ؟'' اس نے کہا،''اس شہرمیں میرا ایک بھائی رہتاہے اس سے ملنے جارہاہوں۔'' اس فرشتے نے پوچھا ،''کیا اس کا تجھ پر کوئی احسان ہے جسے اتارنے جارہاہے؟'' تو اس نے کہا،''نہیں بلکہ اللہ عزوجل کے لئے اس سے محبت کرتاہوں۔'' فرشتے نے کہا،''مجھے اللہ عزوجل نے تیرے پاس بھیجا ہے تاکہ تجھے بتادوں کہ اللہ عزوجل بھی تجھ سے اسی طرح محبت فرماتا ہے جس طرح تواس کیلئے دوسروں سے محبت کرتاہے۔''(صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب فضل الحب فی اللہ رقم ۲۵۶۷ ص ۱۳۸۸)
(۲) حضرتِ عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو