پیارے بھائی! ذرا غور کیجئے کہ دنیاوی ضروریات کو پورا کرنے اور آسائشوں کے حصول کے لئے لوگ کئی کئی سال کے لئے اپنے والدین ،بیوی بچوں اور دوست احباب کو چھوڑ کر اپنے وطن سے دور دوسرے ملک کا سفر اختیار کرتے ہیں ۔ آخرت کا معاملہ تو دنیا سے کہیں زیادہ اہم ترین ہے ، میں آپ سے صرف تیس دن کی درخواست کرتا ہوں ، برائے کرم تیس دن کے لئے مدنی قافلوں میں سفر کی نیت فرما لیں اور اپنا نام بھی لکھا دیجئے۔ نعیم بھائی : آپ کی باتیں سن کر تو جی چاہتا ہے کہ میں ساری زندگی کے لئے قافلوں میں سفر کروں لیکن افسوس ! کہ ابھی میرے حالات ایسے ہیں کہ میں 30دن کے لئے گھر سے باہر نہیں رہ سکتا ۔ کیا 30دن کے علاوہ قافلے سفر نہیں کرتے ؟ جنید عطاری : (کچھ دیر توقف کے بعد ) چلئے پھر آپ 12دن کے مدنی قافلے میں سفر کر لیجئے ۔ نعیم بھائی : ہاں 12دن کے لئے ترکیب بن سکتی ہے ۔ جنید عطاری : (قافلے کے لئے نام اور پتہ لکھنے کے بعد مدنی انعامات کا کارڈ دکھاتے ہوئے ) یہ دیکھئے !یہ مدنی انعامات کا کارڈ ہے ۔(پھر اسے تھوڑا مطالعہ کرنے کا وقفہ دے اور یوں گویا ہو)یہ دراصل امیرِاہل ِ سنت ، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری مد ظلہ العالی کے عطا کردہ مدنی انعامات ہیں۔ یہ دراصل خود احتسابی کا ایک جامع اور خود کار نظام ہے جس کو اپنا لینے کے بعد نیک بننے کی راہ میں حائل رکاوٹیں اللہ تعالیٰ کے فضل