میں دور دراز کے سفر اختیار کرتے ہیں ، انہیں نیکیاں کمانے کی جستجو جبکہ ہمیں مال کمانے کی آرزو ۔ جو اسلام ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اولیائے کرام کی بے شمار قربانیوں کے بعد نصیب ہوا ہے ، افسوس صد افسوس ! اس کی ترقی واشاعت کی ہمیں بالکل فکر نہیں۔ آج مسلمان ترکِ نماز اور دیگر گناہوں پر دلیر ہوچکا ہے ، مسجدیں ویران اور گناہوں کے اڈے آباد ہیں ، ہر طرف غفلت کا دور دورا ہے ۔
پیارے بھائی! عنقریب ہمیں بھی مرنا ہے ، اندھیری قبر میں اترنا ہے اور اپنی کرنی کا پھل بھگتنا ہے ۔ قبر کی ہولناک تاریکی اور قیامت کا دہشت ناک منظر ،یہ بھلانے والی باتیں نہیں ہیں ۔اب سرکار اکے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی ، اب ہم غلامان ِ مصطفیاکواپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے اور اس کا مؤثر ترین ذریعہ عاشقانِ رسول کے مدنی قافلوں میں سفر کرنا ہے ۔ اس کے لئے وقت ، مال اور جان کی قربانی پیش کرنا اور تکالیف پر صبر کرنا ،یہ سب عظیم سنتیں ہیں ۔ مدنی قافلوں میں علمِ دین حاصل ہوتا ہے اور علمِ دین کی فضیلت کے کیا کہنے ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ ابودَرْدَاء ص سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہو ئے سناکہ، ''جو علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتاہے تواللہ تعالی اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرمادیتاہے اور بے شک فرشتے طالب علم کے عمل سے خوش ہوکر اس کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور بے شک زمین وآسمان میں رہنے والے یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں عالم دین کے لئے استغفار کرتی ہیں اور عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی دیگر ستاروں پر اور بے شک علماء وارث ِانبیا ء علیہم السلام ہیں بیشک انبیاء علیہم السلام درہم ودینار کا وارث نہیں بناتے بلکہ یہ نفوس ِ قدسیہ علیہم السلام تو