Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
191 - 200
چادر کا پٹہ ڈال کر اس زور سے کھینچتے کہ آنکھیں اُبل آتیں ۔ جب آپ ا دعوتِ اسلام کے لئے طائف تشریف لے گئے تو کفّار ناہنجار نے گالیاں دیں، مذاق اڑایا اور پتھراؤتک کیا جس سے جسمِ نازنین لہولہان ہوگیا اور نعلین خون سے بھر گئیں ۔ جب سرکار ابے قرار ہوکر بیٹھ جاتے تو کفّار جفاکار بازو تھام کر اٹھا دیتے ۔ جب آپ ادوبارہ چلنے لگتے تو وہ پھر سے پتھر برسانے لگتے ۔ مصطفی جان ِرحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل کوشش جاری رکھی ، بالآخر یہ کوششیں رنگ لائیں اور اسلام کی روشنی چاردانگ ِ عالم میں پھیل گئی ۔

    آپ نے دیکھا کہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کس قدر کوشش اور مشقت سے اسلام کی دعوت دی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اولیائے کرام رحمۃ اللہ علیھم نے بھی پیغامِ اسلام کو عام کرنے کے لئے دنیا بھر میں سفر اختیار کیا ۔ انہوں نے اسلام کی خاطر راہِ خدا عزوجل میں اپنی جانیں تک قربان کیں ۔ ان نفوس ِ قدسیہ کی کوشش ہی کا نتیجہ ہے کہ آج شجرِ اسلام ہرابھرا نظر آرہا ہے ۔

     مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہم عزت وعظمت اور شان وشوکت کے تنہا مالک تھے مگر اب آہ! مسلمانوں کی حالتِ زار ہمارے سامنے ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نمازی تھے اور ہماری اکثریت بے نمازی ، وہ سنت کے دیوانے تھے اور ہم فیشن کے مستانے ، وہ خود بھی نیکیاں کرتے اور دوسروں تک بھی نیکی کی دعوت پہنچاتے تھے جبکہ ہم نہ صرف خود گناہ کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی گناہوں کے اسباب مہیا کرتے ہیں ، وہ اسلام کی سر بلندی کی خاطر راہِ خدا عزوجل میں سفر کرتے جبکہ ہم محض مالِ دنیا کی جستجو