کام میں مشغول رہ لیکن پانچ وقت میری بارگاہ میں مجھ سے ملاقات کے لئے حاضر ہوجا اورنماز پڑھ،۔۔۔۔۔۔چاہے تُو سارا سال ہر وقت میری نعمتیں کھا لیکن رمضان کے تیس دن سحری تا افطاری میری رضاء کے لئے ان سے ہاتھ روک لے اور روزہ رکھ ، ۔۔۔۔۔۔چاہے تُو جتنا چاہے مال کمااور خرچ کر لیکن مخصوص مقدار ِ مال پر سال گزرنے پر میرے غریب بندوں کو بھی ان کا حصہ دے اور زکوۃ ادا کر ،۔۔۔۔۔۔ چاہے تُودنیا میں جہاں چاہے بسیرا کر لیکن جب تیرے پاس میرے گھرکعبہئ مشرفہ کی زیارت کے لئے سفر کرنے کے اسباب مہیاہوجائیں تو پوری زندگی میں صرف ایک بارعظمتِ کعبہ کو سلام کرنے کے لئے حاضر ہوجااور حج کر،۔۔۔۔۔۔اے میرے بندے! میری دی ہوئی نعمتوں کا جوچاہے استعمال کر لیکن انہیں میری نافرمانی میں استعمال نہ کرنا کہ میں نے نافرمانوں کے لئے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے ، ۔۔۔۔۔۔''
پیارے بھائی !یقینا ہمیں سب سے زیادہ اپنے رب ل سے ڈرنا چاہیے، اس کی دی ہوئی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے ، قصور ہوجائے تو اعتراف کرنے اور معافی مانگنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے کہ'' وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے ''، نیکی ہوجانے پر اسی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں اس کی توفیق دی ،۔۔۔۔۔۔لیکن افسوس ! آج کے مسلمان کا اپنے رب ل کو راضی کرنے کا ذہن ہی نہیں ،اگر ایسا ہوتا تو کیا مسلمانوں کی نمازیں قضاء ہوتیں یا روزے قضاء ہوتے ؟ آج اگر دُھن ہے تو اپنا کاروبار چمکانے کی ، مستقبل کو روشن کرنے کی ، اولاد کو ترقی دلانے کی ۔ افسوس! آج قبروآخرت کی بھلائی کی پڑی کس کو ہے ؟ کاش ! ہم آخرت کی اہمیت کو سمجھ پاتے اوراس کی بہتری کے لئے کوشش کرتے جیسا کہ ایک بزرگ فرماتے ہیں ،''انسان جتنا دنیا کے لئے کڑھتا ہے اگر اتنا آخرت