نوکری اختیار کی ہے اور ہم اپنے سیٹھ یا افسر کی ہدایات پر عمل کرنے میں کس قدر مستعد رہتے ہیں اور غلطیوں کے ارتکاب ، جائے ملازمت پر پہنچنے میں تاخیراور غیرحاضری سے محفوظ رہنے کے لئے حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ کہیں میرا سیٹھ مجھ سے ناراض ہوکر ڈانٹ نہ پِلادے ، کہیں مجھے نوکری سے نہ نکال دے ،کہیں میری تنخواہ میں سے کٹوتی نہ کرلے؟۔۔۔۔۔۔ ڈیوٹی کے دوران بھی ہمیں اس کے موڈ کی فکر رہتی ہے کہ کسی وجہ سے بگڑ نہ جائے ، ۔۔۔۔۔۔اگرباوجود احتیاط کے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو اپنے بچاؤ کے لئے پوری کوشش کرتے ہیں لیکن جب اُس کی گرفت سے بچ نکلنے کی کوئی راہ نظر نہ آئے تو ہتھیار ڈال کر معافی مانگ لیتے ہیں،۔۔۔۔۔۔
فاروق بھائی !سوچنے کی بات ہے کہ آج کسی کی ملازمت کرنے والا چند روپے ہتھیلی پر رکھ دینے والے سیٹھ سے وفاداری کا دم تو بھرتا ہے اور اس کا عملی ثبوت فراہم کرنے کے لئے بھی تیار رہتا ہے ، لیکن اپنے مالک ِ حقیقی(ل)سے اس کی وفاداری کیا ہوئی؟۔۔۔۔۔۔ جس نے اسے کروڑہا نعمتوں سے نوازا مثلاً اسے پیدا کیا ،۔۔۔۔۔۔ زندگی باقی رکھنے کے لئے سانسیں عطا فرمائیں ،۔۔۔۔۔۔ چلنے کے لئے پاؤں دئیے۔۔۔۔۔۔، چھونے کے لئے ہاتھ دئیے۔۔۔۔۔۔، دیکھنے کے لئے آنکھیں عطا فرمائیں۔۔۔۔۔۔ ، سننے کے لئے کان دئیے۔۔۔۔۔۔، سونگھنے کے لئے ناک دی۔۔۔۔۔۔، بولنے کے لئے زبان عطا کی اور کروڑ ہا ایسی نعمتیں جن پر ہم نے آج تک غور نہیں کیا ہوگا ،۔۔۔۔۔۔لیکن اس کے باوجود ہمارے پروردگار ل نے ہم سے کچھ طلب نہیں کیاکیونکہ وہ بے نیاز ہے ،۔۔۔۔۔۔ لیکن اس نے ہماری ہی بھلائی کے لئے، ہمیں جنت کی ابدی وسرمدی نعمتوں کے درمیان پہنچانے کے لئے ہمارے ذمے کچھ کام لگائے کہ'' اے میرے بندے !چاہے تُوسارا دن اپنے