کرایہ پر اشیاء کا لین دین کرنے ، (شادی کرنے کی صورت میں )نکاح وطلاق ، حقوق العباد وغیرہ کے مسائل اوراس کے ساتھ ساتھ گناہوں کی پہچان کا علم کہ کون سے افعال وکیفیات گناہ میں شمار ہوتی ہیں اور کونسی نہیں؟۔۔۔۔۔۔
حسن بھائی : واقعی آپ درست ارشاد فرمارہے ہیں ، لیکن اس نفسانفسی کے دور میں کس کو پڑی ہے کہ ہمیں دین کی باتیں سکھائے ؟ کوئی سیکھنا بھی چاہے تو کیسے سیکھے ؟
رضوان عطاری : پیارے بھائی !اس بارے میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ، الحمدللہ عزوجل ! اس پر فتن دور میں تبلیغ ِقرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ''دعوتِ اسلامی '' اس فریضے کو بخوبی سرانجام دے رہی ہے ۔اس کا ہفتہ وار سنتوں بھرا اجتماع ہر جمعرات بعدِ نمازِ مغرب ''فیضان مدینہ محلہ سوداگران پرانی سبزی منڈی ''میں شروع ہوجاتا ہے ۔ آپ بھی میرے ساتھ اس اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کریں ۔ وہاں پر ہونے والی تلاوتِ قرآن، اصلاحی بیان، اجتماعی طور پر کی جانے والی فکر ِ مدینہ اور ذکرُاللہ عزوجل اور اشک بار آنکھوں کے ساتھ کی جانے والی دعائیں، سرور ِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا جانے والے درود وسلام، پھرسنتیں سیکھنے اور دعائیں یاد کروانے کے حلقے وغیرہ، یہ سب کچھ آپ کے دل ودماغ میں انقلاب برپا کر دے گا۔ اس کے علاوہ وہاں پر آپ کو اس پر فتن دور میں بھی ہزاروں ایسے اسلامی بھائی ملیں گے جو سرکار ِ دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سنتوں کی چلتی پھرتی تصویر ہیں ۔ ان کی حیاء سے جھکی ہوئی نگاہیں ، سنت کے مطابق بدن پر سفید لباس اورسر پر زلفیں نیز گنبد ِ خضریٰ کی یاد دلا دینے والا سبز سبزعمامہ، چہرے پر شریعت کے مطابق ایک مٹھی داڑھی ،بقدرِ ضرورت