Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
177 - 200
باوجود اگر امتحان میں فیل(Fail) ہوجائیں تو ہمت ہارے بغیر ضمنی امتحان (Supplimentry Examination ) کی تیاری میں لگ جاتے ہیں ،۔۔۔۔۔۔

    لیکن ذرا غور کیجئے ! کہ اس امتحان میں ناکامی کی صورت میں زیادہ سے زیادہ رد عمل یہ ہوگا کہ ہمیں اگلی کلاس میں بیٹھنے سے روک دیا جائے گا لیکن ایک امتحان محشر میں بھی ہونا ہے اورمیدانِ محشر تو وہ امتحان گاہ ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ انسان اس وقت تک قدم نہ ہٹا سکے گا جب تک ان پانچ سوالات کے جوابات نہ دے لے(۱)تم نے زندگی کیسے بسر کی؟(۲)جوانی کس طرح گزاری ؟ (۳)مال کہاں سے کمایا ؟ اور۔۔۔۔۔۔ (۴)کہاں کہاں خرچ کیا ؟(۵)اپنے علم کے مطابق کہاں تک عمل کیا ؟
(مشکوۃ المصابیح ،کتاب الرقاق، ج۳،ص۱۱۲،رقم:۵۱۹۷)
     گویا ہمار ی عمر بھر کی کمائی کا حساب لیا جائے گا اور جوابات صحیح نہ دے سکنے کی بناء پر جہنم کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈال دیاجائے گا جس کے بارے میں مدنی آقا ا نے فرمایا ،''دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب جس کو ہو گا اسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔''
( صحیح البخاری ،باب صفۃ الجنۃ والنار ، ص۱۱۶۵، رقم الحدیث ۶۵۶۱)
    پیارے بھائی !برا مت مانئے گا! ایک جانب تو یہ حال ہے کہ آج کا طالب علم دنیاوی علوم میں تو کمال کی بلندیوں کو چُھو لینا چاہتا ہے ، لیکن علمِ دین کے بارے میں اس کی دل چسپی نہ ہونے کے برابر ہے ،۔۔۔۔۔۔ دینی احکام پر عمل پیرا ہونے کے لئے شریعت کے کم از کم اتنے احکام تو سیکھ لینے چاہئیں جن کا سیکھنا ایک مسلمان پر فرض ہے ، مثلاً عقائد ِ اسلام، عبادات یعنی نماز وروزے وغیرہ کے مسائل ،معاملات یعنی خرید وفروخت کرنے ،
Flag Counter