| اِنفرادی کوشش |
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
کسی کی غم خواری کرنے سے جہاں ہمیں تنظیمی طور پر فائدہ حاصل ہوگا وہیں اُخروی فضائل بھی ملیں گے ۔
(i) حضرتِ جابررضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ''جو کسی غمزدہ شخص سے تعزیت (یعنی اس کی غم خواری)کر ے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے تقوی کا لباس پہنائے گا اور روحو ں کے درمیان اس کی روح پر رحمت فرمائے گا اور جو کسی مصیبت زدہ سے تعزیت کریگا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے جنت کے جوڑوں میں سے دوایسے جوڑے عطا کریگا جن کی قیمت دنیا بھی نہیں ہوسکتی۔''(المعجم الاوسط طبرانی ج۶ ص ۴۲۹ رقم ۹۲۹۲)
(i) حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ''مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کو گیا تو واپس ہونے تک جنت کے پھل چننے میں رہا۔''
(بخاری رقم الحدیث ۲۵۶۸ ص۱۳۸۹ )
(ii) حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ سرورِکونین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ''جو مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کے لیے صبح کو جائے تو شام تک اس کے لیے ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے ہیں اور شام کو جائے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوگا۔''
(سنن الترمذی، رقم الحدیث ۹۷۱ ،ج۲، ص۲۹۰ )
(iii) رحمتِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،''جو کسی مسلمان کے جنازے