گفتگوکے دوران اگر سامنے والا (معاذ اللہ عزوجل )کوئی ایسا کلمہ کہہ ڈالے جسے علمائے کرام نے کفرقرار دیا ہو(کلمات کفر کی پہچان کے لئے امیرِ اہل ِ سنت مدظلہ العالی کے رسالے ''اٹھائیس کلمات کفر''کا مطالعہ کریں )تو اس کے الفاظ کی تائید نہ کریں ، لیکن اُس پر فوری طور پر ''کفر کا فتویٰ''لگانے سے بھی پرہیز کریں کہ اسی میں عافیت ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو اور وہ کلمہ کفر نہ ہو یا پھر وہ کلمہ توکفر ہو لیکن اس کے کہنے والے کو کافر نہیں کہا جاتا (اس کی تفصیلی معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب''ایمان کی حفاظت''کا مطالعہ فرمائیں )بہر صورت اسے حکمت عملی سے سمجھائیں کہ'' پیارے بھائی میری معلومات کے مطابق علمائے کرام نے اس بات کو کفر قرار دیا ہے لہذا ! آپ احتیاطاً تجدید ایمان کے لئے کلمہ پڑھ لیجئے اور کسی مستند عالم سے اس بارے میں ضرورپوچھ لیجئے گا ۔'' پھرایمان کی حفاظت کے بارے میں اس کا ذہن بنا کر ''اٹھائیس کلمات کفر ''نامی رسالہ تحفے میں دے دیں اور اپنی گفتگو کا سلسلہ وہیں سے جوڑ لیں جہاں سے ٹوٹا تھا ۔