| اِنفرادی کوشش |
اسے رسوا کرے ، اللہ اِس کا برا کرے بلکہ یوں کہو اللہ اِسکی توبہ قبول فرمائے اِسکی مغفرت فرمائے۔''
(کنزا لعمال ، کتاب الاخلاق ، باب فضیلۃ الصبر ، رقم ۶۵۲۱، ج۳، ص۱۱۲بتغیر قلیل)
(15) سب کے سامنے نہ سمجھائیں:
اگر وہ کوئی غلطی کردے تو اسے سب کے سامنے ہرگز نہ ٹوکیں کہ اس کی دل آزاری ہوجانے کا قوی امکان ہے جس کی وجہ سے آپ کی بات بے اثر ہوجائے گی ،لہٰذا موقع پاکر تنہائی میں سمجھائیں۔
حضرت سیدناابودردا رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ'' جس نے اپنے بھائی کو سب کے سامنے نصیحت کی اس نے اس کو ذلیل کر دیا اور جس نے تنہائی میں نصیحت کی اس نے اس کو مزین (آراستہ) کردیا۔''(تنبیہ الغافلین ص۹۴ )
(16) اعتراض یا تنقید کا جواب:
اگرملاقات کے دوران سامنے والا آپ کی ذات یا تنظیم پر خوامخواہ کا اعتراض یا بے جا تنقید کرے توبھڑک اٹھنے کی بجائے زبان کا قفل مدینہ لگاتے ہوئے اسے نرمی کے ساتھ نیکی کی دعوت دینے کا سلسلہ جاری رکھئے ۔اور اگر ایسی صورت حال ہو کہ اس کا جواب دینا ضروری ہوجائے توانتہائی حکمتِ عملی سے جواب دیجئے کہ سننے والا کوئی بھی شخص بدظن نہ ہو ۔
(17) اس کی کوئی بات بری لگے تو ؟
اگرآپ کو اس کی کوئی بات بری لگے تو اس پر ظاہر نہ ہونے دیں بلکہ