| اِنفرادی کوشش |
(۲) حضرتِ اَنَسْ بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کے پاس تشریف لائے اور اسے ہلایا یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے اسکے جتنے پتے گرانا چاہے اتنے پتے گر گئے پھر فرمایاکہ'' مصیبتیں اور تکلیفیں میرے اس درخت کے پتوں کو گرانے سے بھی تیزی سے آدمی کے گناہوں کو گرا دیتی ہیں۔''
(مجمع الزوائد ج۲ ص ۳۰۱ )
(۳) رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ'' قِیَامَتْ کے دن جب اہل بلا کو ثواب دیا جائے گا تودنیا میں عافیت کے ساتھ رہنے والے تمنا کریں گے کہ کاش! ان کی کھالوں کوقینچیوں سے کاٹ دیا جاتا۔''
( ترمذی ،کتاب الزھد ، رقم: ۲۴۱۰ ،ج۴، ص ۱۸۰)
(۴) حضرتِ سیدنامعا ویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا،''مومن کے جسم میں جو ایذاء دینے والی چیز پہنچتی ہے اللہ عزوجل اس کے سبب اس بندے کے گناہ مٹادیتا ہے ۔''
(التر غیب والترھیب رقم ۵۲۷۳ ج۶ ص ۱۶۶)
(12) اس کے ذاتی حلئے وغیرہ پر اعتراض نہ کریں:
اگر سامنے والے نے خلافِ سنت لباس پہنا ہوا ہو یا وہ کسی اعلانیہ فسق (مثلاً داڑھی منڈانے کے گناہ )میں مبتلاء ہو تو اس پرتنقید نہ کریں کہ فائدہ کی بجائے نقصان ہو سکتا ہے ۔
(13) اختلافی وسیاسی بحث میں نہ الجھیں:
اگر دورانِ گفتگو سامنے والاکسی قسم کی اختلافی بحث چھیڑنے کی