| اِنفرادی کوشش |
وہ پہن لئے جائیں ،وغیرہ ۔۔۔۔۔۔بلکہ ہمیں ہر وقت ان چیزوں کا خیال رکھنا چاہئیے کہ کسی بھی وقت کسی بھی مقام پر ہمیں انفرادی کوشش کے لئے ملاقات کرنا پڑ سکتی ہے ۔اس کے علاوہ مدنی تحائف مثلاً عطر کی شیشی ، رسائل ِ امیرِ اہل سنت مدظلہ العالی، آپ کے بیانات کی کیسٹیں ، مدنی انعامات کے کارڈ اور تسبیح وغیرہ بھی اپنے پاس ضرور رکھیں۔
ملاقات کی ابتداء کس طرح کریں؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
جب کسی سے ملاقات ہو تومسکراتے ہوئے سلام کرکے اس کا نام (اگرپہلے سے معلوم ہوتو)پکار کر اس سے گرمجوشی سے مصافحہ کریں اور مصافحہ کے دوران اگر انگوٹھے کے پاس ایک رگ کو دبایا جائے تو آپس میں محبت بڑھتی ہے۔یاد رہے دورانِ مصافحہ توجہ سامنے والے کی طرف ہونی چاہئیے ایسا نہ ہو کہ آپ کا چہرہ کسی اور جانب ہو جبکہ ہاتھ کسی دوسرے کی طرف بڑھ رہے ہوں۔ہاں ! اگر سامنے والے کی توجہ کسی اور طرف ہو تو مصافحہ کرتے وقت اس کے ہاتھ کو خفیف سا جھٹکا دیں (جس سے اسے تکلیف نہ پہنچے )ان شاء اللہ عزوجل وہ آپ کی طرف متوجہ ہوجائے گا ۔ اگر موقع ہو تو معانقہ بھی کریں (بشرطیکہ وہ امرد نہ ہو )اور اس کے بعد گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے مناسب الفاظ میں اس کی خیریت دریافت کریں ۔ پھر(اگر معلوم نہ ہو تو ) اس کانام پوچھ لیجئے اور اگر نام شریعت کے مطابق ہے تو اس کے نام کی تعریف بھی کردیجئے کہ بڑا پیارا نام ہے ۔ پھر اسے اپنا نام اور کام بھی بتا دیجئے ، اس کے بعد نپے تلے الفاظ میں اس کا کام بھی دریافت کر لیں مثلاً ''شعیب بھائی !آپ پڑھتے ہیں یا کوئی کام وغیرہ کرتے ہیں؟''پھر اس پر مدنی ماحول کی اہمیت