اسلامی بھائی یہ بات سن کر جھینپ گئے اوراس دن کے بعدمجھ سے ملنا چھوڑ دیا ۔افسوس! مجھ سے غلطی ہوگئی ، گویا ابھی توا گرم نہیں ہُوا تھا کہ میں نے ٹھنڈے توے پر ہی روٹی ڈال دی یعنی نیکی کی دعوت دینے میں جلد بازی سے کام لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس اسلامی بھائی نے ملنا ہی چھوڑ دیا اگر وہ ملتے رہتے تو کم از کم میں انہیں نیکی کی دعوت توپیش کرتا رہتا ، اس طرح آہستہ آہستہ ان کا ذہن بن جاتا اوروہ بھی ایک دن اپنے چہرے پر سنت کے مطابق داڑھی سجا لیتے۔''
یہ بھی یاد رکھئے کہہمیں جن اسلامی بھائیوں پر انفرادی کوشش کرنی ہے ان کا تعلق زندگی کے مختلف شعبوں سے ہوسکتا ہے مثلاًطالب علم ، استاذ، وکیل ، ڈاکٹر ، فوجی افسر، کاروباری شخص ، ملازمت پیشہ وغیرہ، ۔۔۔۔۔۔پھران میں کوئی جوان ہو گا تو کوئی بوڑھا،۔۔۔۔۔۔اوراسی بناء پر ان میں سے ہر ایک کی گفتگو،لباس ، رہن سہن اور سوچ کا انداز جداگانہ ہوتا ہے ، لہذا! ہمیں چاہئے کہ ہر ایک پر اس کی نفسیات کے مطابق انفرادی کوشش کریں اور یہ گُر سیکھنے کے لئے مدنی قافلوں میں سفر کرنا ، امیرِ اہل سنت حضرت علامہ ابوبلال محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی کے مدنی مذاکروں کو سننا اورجتناممکن ہوسکے آپ مدظلہ العالی کی صحبت میں بیٹھنا بے حدمفید اور ضروری ہے ۔