یعنی پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ ''
(صحیح مسلم رقم الحدیث ۲۲۳ ص۱۴۰)
٭حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ سرو رعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ''جس کے بال ہوں تو وہ ان کا اِکرام کرے یعنی ان کو دھوئے، تیل لگائے، کنگھا کرے۔''
(سنن ابو داؤدرقم الحدیث ۴۱۶۳ ج۴ ص۱۰۳ )
لیکن یہ بھی نہ ہو کہ ہر وقت کنگھا لے کر سر کے بالوں کے پیچھے پڑے رہیں اور نہ ہی اتنی لاپرواہی سے کام لیں کہ بال الجھے اور بکھرے ہوئے رہیں۔بہرحال ہماراحلیہ سنتوں کے سانچے میں ڈھل کر ایسا ستھرا اور نکھرا ہونا چاہیے کہ لوگ ہمیں دیکھ کر ہم سے گھن نہ کریں بلکہ ہماری طرف مائل ہوں۔
مِری ہرہر اداسے یانبی سنت جھلکتی ہو
جدھر جاؤں شہا خوشبو وہاں تیری مہکتی ہو
شیخ ِطریقت امیرِ اہل ِسنت علامہ ابوبلال محمد الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ '' جس کو یہ گُرمل گیا کہ کہاں کیا بولنا ہے تو وہ کامیاب ہوگیا۔''