جو مبلغ جتنا زیادہ خوش اخلاق ہو گایعنی سلام میں پہل کرنے والا ہوگا، پرتپاک انداز سے مصافحہ یامعانقہ کرنے کا عادی ہوگا،خندہ پیشانی سے مسکرا کر ملنے والا ہوگا ، اپنی ذات کے لئے غصہ کرنے والا نہ ہو گا،جو اس پر ظلم کرے اسے معاف کرنے والا ہو گا ، احترامِ مسلم کا خوگر ہوگا اورمسلمانوں کی غم خواری کرنے والا ہوگا تو لوگ اتنی ہی آسانی سے اس کی طرف مائل ہوں گے اور اسے کسی پرانفرادی کوشش کرنے میں دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔خوش اخلاقی اپنانے کے لئے ہمیں چاہئیے کہ اس کے فضائل پر غور وفکر کریں مثلاً
(۱) حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، ''بندہ اپنے حسن اخلا ق کی وجہ سے رات کو عبادت کرنے والے اوردن میں روزہ رکھنے والے کے درجے کو پالیتاہے۔''