ایسے اسلامی بھائیوں کی خدمت میں مدنی التجاء ہے کہ غور کریں کہ ہماری یہ مصروفیات ہمارے دیگر دنیاوی معاملات مثلاً شادی بیاہ میں شرکت کرنے ، کسی عزیزکی فوتگی پر جانے ، دور رہنے والے رشتے داروں سے ملاقات کے لئے جانے وغیرہ میں بھی رکاوٹ بنتی ہیں یا نہیں ؟ اگر جواب نہ میں ہو تو لمحہئ فکر ہے کہ ان مصروفیات کو اخروی سعادتوں کے حصول میں رکاوٹ بناکر کہیں ہم شیطان کے ہاتھوں کھلونا تو نہیں بن رہے ؟ اس لئے دنیا وآخرت کی ڈھیروں بھلائیاں حاصل کرنے کے لئے اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر انفرادی کوشش شروع کردیجئے ۔
ہم انفرادی کوشش کرنا چاہتے ہیں لیکن سُستی ہوجاتی ہے ۔
اس رکاوٹ کو دور کرنے کا طریقہ:
ظاہر ہے یہ سستی نفس وشیطان کی طرف سے ہے ۔ غور کیجئے کہ ایسامدنی کام جو ہمارے لئے عظیم ثواب ِ جاریہ کا سبب بن سکتا ہو اوراس میں تنظیمی ترقی کا