Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
125 - 200
کے لئے اسلامی بھائیوں سے ملاقات کرنا ہی پڑے گی ۔اس سلسلے میں اس حکایت پر غور کیجئے ،

    '' ایک چھوٹا سا بگلہ جو اونچی چٹان پر ہی پیدا ہواتھا ۔ پہلے پہل اس کے بہن بھائی اور ماں اسے مچھلیاں لا کر کھلاتے رہے ۔جب وہ تھوڑا سے بڑا ہو گیا تو انہوں نے اس سے خود شکار کر کے کھانے کا مطالبہ کیا لیکن وہ اڑنے سے ڈرتا رہا ۔آخر ایک دن ایسا آیا کہ کوئی بھی اس کے پاس مچھلی وغیرہ نہ لایا ۔ جب وہ بھوک سے نڈھال ہوگیا اور اس نے چٹان سے نیچے جھانکا تو اسے نیچے بہت بڑا سمندر دکھائی دیا جہاں سے اسے خوراک مل سکتی تھی ۔ اسے اڑنے سے بے حد ڈر لگا لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا چنانچہ اس نے ہمت کر کے چٹان سے چھلانگ لگا دی۔وہ نیچے گرنا شروع ہوگیا لیکن اچانک اس نے محسوس کیا کہ اس کے پر پھڑپھڑا رہے ہیں اور وہ اڑرہا ہے ۔ وہ آرام سے ساحل ِ سمندر پر اتر آیا۔اب وہ خود اپنی خوراک کا انتظام کرنے کے لائق ہوچکا تھا ۔ ''

     اسی طرح شدید سردی میں ٹھنڈے پانی کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں لیکن اگر کبھی فجر کے وقت اس سے وضو کرنا پڑ جائے تو پہلی مرتبہ ہاتھ میں لینے پر اس کی ٹھنڈک برداشت کرنا بے حد مشکل لیکن بعد میں بے حد آسان ہوجاتا ہے۔ بالکل اسی طرح انفرادی کوشش کرنے میں جھجھک کا شکار ہونے والے کو چاہیے کہ وہ احساس ِ کمتری میں مبتلاء ہونے کی بجائے موقع ملتے ہی ہمت کر کے انفرادی کوشش کا آغاز کر دیا کرے اور اپنی نظر اسباب پر نہیں خالق ِ اسباب عزوجل پررکھے ۔ مسلسل انفرادی کوشش جاری رکھنے کی برکت سے ایک وقت ایسا آئے گا کہ اسے بلا کی خوداعتمادی حاصل ہوجائے گی اور وہ اپنی ابتدائی کیفیات کو یاد کر کے مسکرائے بغیر نہ رہ سکے گا ۔