نہیں آتی ۔ انگریزی لبا س میں ملبو س ، پینٹ اور شر ٹ میں کَسا کسَایا اَپ ٹُو ڈیٹ نوجوان پٹا خ پٹا خ بوٹ پچھا ڑتا گزرے تو سب کو بھلالگے مگر مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کا دیوانہ سنتو ں بھر ے سفید لباس میں ملبو س ، با رِیش و با عِمامہ سنت کے مطا بق زلفیں لہراتا ، نگاہیں نیچی کئے خوشبوئیں مہکاتا گزرے تو ایک آنکھ نہ بھائے ۔ آہ !
وہ دو ر آیا کہ دیوانہئ نبی کیلئے ہرایک ہاتھ میں پتھردکھائی دیتا ہے
نہ جانے مسلمان کب غفلت کی نیند سے بیدا ر ہوگا ! یہ سینما گھرو ں اور بر ی صحبتوں سے نکل کر مسجد کی طر ف کب پلٹے گا ؟ خود برائی سے با ز رہ کر دو سرو ں کو برائیوں سے باز رکھنا کب سیکھے گا ؟ وہ مسلمان کس قد ر بد نصیب ہے جو دنیا کی ذلیل دولت کی خاطر تو اپنا گھر با ر ، ماں باپ ، وطنِ عزیز سب کچھ چھوڑ کر دُور دراز کے ملکوں کا سفر اختیار کرسکتا ہے مگر اللہ عزوجل کے دین کی سر بلندی کی خاطر وہ اپنے گھرسے چند رو ز کیلئے بھی نکلنے کے لئے تیار نہیں ۔ وہ ماں باپ بھی کتنے عجیب ہیں کہ اپنی اولاد کو علمِ دنیا کی خاطر دُور درا ز کے ممالک میں کفّار تک کے سِپر د کرتے ہو ئے نہیں ہچکچاتے مگر سنتوں کی تر بیت کے مَدَنی قافلے میں چند رو ز بھی سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ پہلے کے مسلمان ماں باپ اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر محبت کرتے تھے اور اپنے جگر پارو ں کو دین سیکھنے کیلئے کس فرا خ دلی کے ساتھ راہ ِخدا عزوجل میں وقف کرتے تھے، اس کا اندا زہ اس واقعہ سے لگا ئیے ۔
'' ایک بزرگ سے ان کے اکلوتے صاحبزادے نے علمِ دین سیکھنے کیلئے سفر کی اجا زت چاہی ۔ پہلے کے دور میں سفر بے حد دشوار گزار ہوتے تھے انہو ں نے بخو شی اپنے بیٹے کو راہ خدا عزوجل میں وقف کردیا ۔ تقریباً دس سال کے بعد بیٹا اپنے والدین کی