Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
121 - 200
اللہ علیہ وسلم کی سنّت کے سانچے میں ڈھلا ہوا ہوتا تھا۔ وہ ''دنیا''کیلئے نہیں خدا ومصطفےٰ عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے زندگی گزارتے تھے ۔ اور ۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔ اب ؟ آہ! آج کے مسلمانوں کا طر زِ عمل اس کے بالکل بر عکس ہے ۔لہذا مسلمان اب تر قی کے بجائے تیزی سے تنزُّل کی گھاٹی میں گر تا چلاجارہاہے ۔ کیوں کہ علم دین کی جگہ علم دنیانے لے لی۔ سنت کی جگہ انگریزی فیش کی نُحُوست چھاگئی ۔ اب جینے کا مقصد صر ف اور صرف دنیا اور بس دنیا کا حُصول بن کر رہ گیا ہے ۔

اے خاصہئ خاصان رسل وقت دعاء ہے     امّت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے 

    آہ ! اب ذلّت وخواری مسلمانو ں کا مقدَّر بن چکی ہے ۔ نہ طا قت وقوت ہے نہ شان وشوکت، نہ آپس میں محبت والفت ہے نہ حسن اخلاق واچھی عادت بلکہ ہر برائی اب مسلمانوں میں موجود ہے ۔ یہ سب زندگی کا مقصد بھلادینے کے سبب ہے ۔ اللہ کے پیارے محبو ب ، دانائے غیوب صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی ارشاد فرماچکے ہیں ، 

    ''جب میری امت دنیا کو قابل ِعظمت سمجھنے لگے گی تو اسلام کی ہیبت ان کے دلوں سے نکل جائیگی اور نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا چھوڑدے گی تو وحی کی برکات سے محرو م ہوجائیگی اور جب آپس میں گالی گلوچ اختیار کرے گی تواللہ تبارک وتعالی کی نظر سے گر جائیگی ۔'' (تر مذی)

    حدیث بالا پر غور فرمائیے ! واقعی اب ہر شخص دنیاہی کامتو الا نظر آتا ہے ۔ اسی دنیا کو سنوارنے کی ہر ایک کو دھن ہے ۔ اسی دنیا کے ہنر وفن سیکھنے میں ہر ایک مگن ہے ۔ عُلُومِ دُنیو ی کی بڑی بڑی ڈگریاں سب کو عزیز ہیں مگر نماز ، وضووغسل کے احکام سیکھنے کی کسی کو نہیں پڑی ۔ دنیا کے مشکل ترین معاملا ت کی تھِیُوری اگر چہ معلوم ہے مگر نماز جنازہ