بانی دعوتِ اسلامی ،امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتھم العالیہ اپنے رسالے ''میٹھے بول'' میں کچھ اس طرح فرماتے ہیں کہ ،
'' ایک بار کسی محفل میں کسی اسلامی بھائی نے مجھے بتایا کہ'' ہمارے نانا جان آپ سے ملنے کا بہت اشتیاق رکھتے ہیں ۔''پھر اشارہ کرکے بتانے لگے کہ وہ سامنے تشریف فرما ہیں ۔ میں نے ان کے نانا جان کا بڑا نام سنا تھا لہذا شوقِ دیدار میں وہاں جا پہنچا ۔ وہ مذہبی وضع قطع کے ایک ضعیف العمر بزرگ تھے جو معتقدین کے جھرمٹ میں تشریف فرما تھے ۔ میں سلام ومصافحہ کے بعد ان کے قریب بیٹھ گیا ۔ بے چارے باتونی بہت تھے ، مسلسل بولتے ہی چلے جارہے تھے ۔ ذرا رکے تو کسی نے پوچھ لیا ،''حضرت ! آپ کی عمر شریف کتنی ہے ؟'' زبان سے فوراً الفاظ پھسل پڑے ،''اجی ! عمر کیا پوچھتے ہو ، دراصل بات یہ ہے کہ حضرتِ ملک الموت علیہ السلام مجھے بھول گئے ہیں ۔'' حاضرین قہقہہ مار کر ہنسے لیکن مجھے کاٹو تو لہو نہیں ،چنانچہ میں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے ذرا بلند آواز سے کہا ،''آپ توبہ کر لیجئے کہ آپ نے ملک الموت علیہ السلام کی توہین کر دی اور یہ کلمہ کفر ہے ،جتنے لوگ یہ جملہ سمجھنے کے باوجود ہنسے وہ بھی سن لیں کہ کفر پر خوش ہونا بھی کفر ہے ، لہذا وہ بھی توبہ کریں ۔'' میری بات سن کر مجمع پر سناٹا طاری ہوگیا اور وہ بزرگ چونکہ ''بڑی نسبتوں''والے تھے ،میری بات سن کر آبدیدہ ہوگئے اور سب کو گواہ بنا کر توبہ کر لی۔