ہاتھوں بیعت ہو کرمدنی ماحول سے وابستہ ہونے والے نواب شاہ (سندھ )سے تعلق رکھنے والے مبلغ ِ دعوتِ اسلامی نے بتایا کہ ،''میں پہلے پہل عورتوں اور مردوں کے مشترکہ ورائٹی پروگرامز میں رنگین روشنیوں کے بیچ ناچ گانا کر کے لوگوں کو تفریح مہیا کرتا تھا۔لیکن الحمدللہ عزوجل ! شیخ طریقت امیر اہلسنت دامت برکاتھم العالیہ کا مریدبننے اور دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ ماحول کو اپنا لینے کی برکت سے میری زندگی میں مَدَنی انقلاب برپا ہوگیا ۔مجھے گناہوں سے توبہ کرنے اور نیکیوں کی طرف مائل ہونے کی توفیق ملی۔ میں فرائض و واجبات تو کیا ، مستحبات و نوافل پر بھی عمل پیرا رہنے لگانیزراہِ خدا عزوجل میں سفر کرنے والے عاشقان ِ رسول (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کے مَدَنی قافلوں میں سفرکر کے نیکی کی دعوت عام کرنے کی سعادت بھی حاصل ہونے لگی۔گناہوں سے دوری اور نیکیوں کی سعادت ملنے کی بناء پر مجھ پر سُرور کی ایک عجیب کیفیت طاری رہنے لگی۔
اسی کیفیت میں ایک مرتبہ امیرِ اہل سنت دامت برکاتھم العالیہ کی بارگاہ میں حاضری ہوئی اور میں آپ کی ہمراہی میں باب المدینہ( کراچی) شہید مسجد کھارادرسے آپ کے آستانے شریف واقعِ موسیٰ لین( باب المدینہ )کی طرف جارہا تھاکہ سُرورکی اسی کیفیت میں اچانک میں نے پیرو مرشد کی بارگاہ میں عرض کی''! حضور مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں جنتی ہوں۔''آپ یہ بات سن کر چونکے اور فوراً پوچھا'' یہ آپ کیونکر کہہ رہے ہیں؟''میں نے عرض کی'' حضور!دعوت اسلامی جیسے مَدَنی ماحول سے وابستگی، اسکی بَرَکت سے گناہوں سے بچتے ہوئے نیکیوں پر استقامت کا حصول اورپھر آپ جیسے ولی کامل سے مرید ہونے کی سعادت۔۔۔۔۔۔ اسلئے مجھے لگتا ہے میں جنتی ہوں۔''
آپ نے مجھ پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا،'' حضرت سیدُناعمر