Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
113 - 200
طرف جارہے تھے اس وقت میں( عبید رضا ابن عطارؔ) بھی ہمراہ تھا ۔راستے میں ہماری گاڑی سمندر کے قریب سے ہوتی ہوئی''جسرالمکتوم''(Al Maktoom Bridge)کے قریب سے گزری تو ایک اسلامی بھائی نے جسر المکتوم کا تعارف کرواتے ہوئے بتایاکہ'' سمندر پر بنے ہوئے اس پل پرگاڑیوں کی آمدو رفت رہتی ہے ،ضرورتاً ٹریفک روک کر اس کو اوپر اٹھا دیا جاتا ہے اور اسکے نیچے سے سفینے گزرتے ہیں۔''یہ سن کر گاڑی پر سوار اسلامی بھائی انتہائی تجسس کے ساتھ اس پُل کی طرف متوجہ ہوئے اورامیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالیہ کی بھی توجہ دیکھنے کی طرف مبذول کروانا چاہی ۔اس پر آپ نے فرمایا،'' اس پل کو دیکھ کر کیا لینا ہے؟ ''پھر یہ شعر پڑھا۔
دیکھنا ہے تو مدینہ دیکھئے     قصرِ شاہی کا نظارہ کچھ نہیں
    اس پر اُس اسلامی بھائی نے تعجب کے ساتھ عرض کی،''کیا سیر و تفریح کرنا شرعاً منع ہے؟ یعنی اس طرح کے پُل وغیرہ تفریحاً نہیں دیکھ سکتے؟''توآپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العا لِیہ نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ '' اگرمَنْہِیّاتِ شرعِی نہ ہوں تو اس طرح کے نظارے اگرچہ شرعاً مباح ہیں مگر بزرگان دین رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، آنکھوں کومباح یعنی جائزخوشنما نظاروں کے دیکھنے سے بھی بچاؤ اور ان کو قید میں رکھو اگر ان کو آزاد چھوڑو گے تو پھر یہ حرام کی طرف دیکھنے کا بھی مطالبہ کریں گی۔ امامِ اہل ِسنت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حدائقِ بخشش شریف میں فرماتے ہیں،
پھول کیا دیکھوں میری آنکھوں میں     دشتِ طیبہ کے خار پھرتے ہیں
( 18) خود کو جنتی سمجھنے والے پر انفرادی کوشش
    دعوتِ اسلامی کے اوائل میں شیخ طریقت امیرِاہل ِ سنت مدظلہ العالی کے
Flag Counter