علامہ مولانا محمد الیاس عطار مدظلہ العالی کی بارگاہ میں لے کر آیا جو انتہائی سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث تھا حتی کہ تین قتل بھی کر چکا تھا اور جیل میں سزا بھی کاٹ چکا تھا ۔اس نے امیرِاہل ِ سنت دامت برکاتھم العالیہ کی خدمت میں اپنی داستان عرض کی اور کہنے لگا کہ، ''میں اپنی بقیہ زندگی عیسائی بن کر گزارنا چاہتا ہوں لیکن آپ کا یہ اسلامی بھائی بہت اصرار کر کے مجھے آپ کے پاس لے آیا ہے۔ لہذا! اگر آپ مجھے مطمئن کردیں تو ٹھیک ، وگرنہ (معاذ اللہ ) میں صبح گرجا گھر جا کر باقاعدہ عیسائی مذہب اختیار کر لوں گا اور پھر سے جرائم کی دنیا میں مصروف ہوجاؤں گا ۔''
بانیئ دعوتِ اسلامی مدظلہ العالی نے بڑی توجہ کے ساتھ اس کی باتیں سننے کے بعد بڑے پیار اور شفقت بھرے لہجے میں اس کو سمجھانا شروع کیا ۔مدنی مٹھاس سے لبریز کلمات گویا تاثیر کا تیر بن کر اس کے جگر میں پیوست ہو گئے ۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ شخص امیرِ اہل ِ سنت کی دست بوسی کرتا ہوا نظر آیا ۔ الحمدللہ عزوجل! وہ عیسائی بننے کے ارادے سے بھی باز آگیا ،مگر چونکہ وہ عیسائی بننے کا ارادہ کر چکا تھا، اس لئے شرعی حکم کے مطابق وہ مرتد ہوچکا تھا ، لہذا! آپ نے اسے توبہ کروائی اور ازسر نو مسلمان کیا ۔ پھر اس نے آپ کے دست مبارک پر بیعت ہو کر شہنشاہ ِبغداد حضور غوثِ الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں ڈال لیا ۔