دعوتِ اسلامی کے اوائل کی بات ہے کہ ایک مرتبہ امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتھم العالیہ مدنی کاموں میں مصروفیت کی بناء پر رات گئے کچھ اسلامی بھائیوں کے ہمراہ کتاب گھر(یعنی اپنی لائبریری)میں پہنچے تو وہاں آپ کے بڑے شہزادے حاجی احمد عبید رضا عطاری سلمہ الباری سوئے ہوئے تھے جو اس وقت بہت کم سن تھے ۔آپ نے فرمایا ،''اِنہیں تہجد پڑھوانی چاہئیے ۔'' اور مدنی منے کو بیدار کرنا چاہا لیکن ان پر نیند کا بے حد غلبہ تھا لہذا ! پوری طرح بیدار نہ ہوپائے ۔ لیکن امیر اہل سنت مدظلہ العالی انفرادی کوشش فرماتے ہوئے مدنی منے کو گود میں اٹھا کرکھلے آسمان تلے لے گئے اور انہیں چاند دکھا کر پوچھا ،''یہ کیا ہے ؟'' مدنی منے نے جواب دیا ،''چاند۔''پھر آپ نے پوچھا ،''یہ کیا کررہا ہے ؟'' مدنی منے نے جواب دیا ،''گنبد ِ خضریٰ کو چوم رہا ہے ۔'' اس گفتگو کے دوران مدنی منّا پوری طرح بیدار ہو چکا تھا چنانچہ آپ نے اسے وضو کرکے تہجد پڑھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی ۔