۱۴۰۶ ھ میں امیر اہل ِ سنت ،حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس قادری مدظلہ العالی پنجاب کے مدنی دورے پر تھے کہ ساہیوال میں آپ کی مڈبھیڑ ایک دہریہ سے ہو گئی ۔ وہ اپنے عقائد ونظریات میں بہت پختہ دکھائی دیتا تھا لہذا! بحث مباحثہ کی بجائے آپ نے اس امید پر اسے کافی محبت وشفقت سے نوازا کہ ہوسکتا ہے کہ حسن ِ اخلاق سے متاثر ہوکر وہ عقائد باطلہ سے تائب ہوجائے ۔آپ کو پاکپتن شریف میں منعقد ہونے والے اجتماعِ ذکر ونعت میں بیان کرنا تھا، لہذا وہ بھی آپ کے ہمراہ چلنے پر تیار ہوگیا ۔ بذریعہ بس پاکپتن شریف پہنچنے کے بعد آپ نے حضرت سیدنا بابا فرید الدین مسعود گنج ِ شکر رضی اللہ تعالی عنہ کے مزارِ پُرانوار پر حاضری دی ۔وہ دہریہ بھی آپ کے ساتھ ساتھ تھا ۔ رات کے وقت اجتماع ِ ذکر ونعت میں آپ نے اپنے مخصوص انداز میں رقت انگیز دعا کروائی ۔ حاضرین پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے ۔ دوران ِ دعا آپ نے رو رو کر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی،''یااللہ عزوجل !راہ ِ حق کا ایک متلاشی ہمارے ساتھ چل پڑا ہے اور اس نے تیری بارگاہ میں ہاتھ بھی اٹھا دیئے ہیں ،اب تُو اس کا دل پھیر دے اور اس کو نور ِ ہدایت نصیب کر کے روشنی کا مینار بنا دے ۔''