(29) ہر سوال کا جواب لکھتے وقت وقفے وقفے سے گھڑی بھی دیکھتے رہیں تاکہ اس سوال کو طے کردہ وقت ہی میں مکمل کیا جاسکے ۔ اگر کسی سوال پر زیادہ وقت صرف ہوجائے تو بقیہ سوالات کے وقت میں مناسب ردو بدل(Adjustment) کر لیں۔
(30) اگر کوئی بات بھول جائے تو درودِ پاک پڑھ لیں جیسا کہ حدیث میں ہے ،''جب تم کسی چیز کو بھول جاؤ تو مجھ پر درود پڑھو ان شاء اللہ وہ چیز تمہیں یاد آجائے گی ۔ ''
(القول البدیع،ص ۲۱۷،مطبوعۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
اگر باوجود کوشش کے وہ بات یاد نہ آئے تو اندازے سے جگہ خالی چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں اور اپنا وقت بچائیں پھر اگر وہ بات یاد آجائے تو لکھ لیجئے ۔
(31) آپ کو جس قدر سوالات کے جوابات آتے ہوں ،لکھ دیجئے اور اسی پر قناعت کریں ہر گز ہرگز نقل لگانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ علمائے کرام نے اسے ناجائز قرار دیا ہے ۔
(32) جب آپ تمام سوالات کے جوابات لکھ چکیں توکم از کم ایک مرتبہ انہیں غور سے پڑھ لیجئے اور جہاں غلطی نظر آئے درست کر لیجئے اور جہاں کہیں جواب ادھورا ہو اسے مکمل کر لیجئے ۔
(33) پرچہ جمع کرانے میں جلد بازی مت کریں بلکہ جب آپ حقیقۃًمطمئن ہوجائیں تو جمع کروادیجئے ۔
(34) اس کے بعد مناسب آرام لینے کے بعد اگلے پرچے کی تیاری شروع کردیں۔